جدائی میں رہتی ہوں میں بے قرار — علامہ محمد اقبال

جدائی میں رہتی ہوں میں بے قرارپروتی ہوں ہر روز اشکوں کے ہار

judaai mein rehti hoon main beqaraarparoti hoon har roz ashkon ke haar

  • جدائی judaaiبچھڑنا (separation)
  • پروتی ہوں paroti hoonدھاگے میں پروتی ہوں (I string)
  • اشکوں ashkonآنسوؤں (tears)

آسان تشریح

تمہاری جدائی میں بے چین رہتی ہوں اور ہر روز آنسوؤں کے ہار پروتی ہوں۔ ایک کے بعد ایک گرتے آنسو دھاگے میں پروئے موتیوں جیسے ہیں۔

In plain English

Parted from you I am never at peace; every day I string garlands of tears. Tears falling one after another are like beads on a string.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 22
کارڈ بنائیں

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم «ماں کا خواب» سے، بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 22۔This couplet is by Allama Muhammad Iqbal, from the nazm “maan kaa khwaab”, Bang-e-Dra (second printing) (1926), p. 22. It means: Parted from you I am never at peace; every day I string garlands of tears. Tears falling one after another are like beads on a string.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: غم · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم ’ماں کا خواب‘ سے۔ ہم نے اسے بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 22 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

تمہاری جدائی میں بے چین رہتی ہوں اور ہر روز آنسوؤں کے ہار پروتی ہوں۔ ایک کے بعد ایک گرتے آنسو دھاگے میں پروئے موتیوں جیسے ہیں۔

اسی نظم کے اور اشعار

پوری نظم

ملتے جلتے اشعار