غیر کا میں بھی اگر چاہنے والا ہوتاڈھنگ اس چاہ کا دنیا سے نرالا ہوتا
ghair kaa main bhi agar chaahne waalaa hotadhang is chaah kaa duniyaa se niraalaa hota
شاعر کہتا ہے کہ اگر میں بھی کسی اور کا چاہنے والا ہوتا تو میری اس چاہت کا انداز ساری دنیا سے نرالا ہوتا۔ یہ اپنی محبت کی گہرائی پر فخر ہے: کمی اس کی چاہت میں نہیں بلکہ اس میں ہے جسے وہ چاہتا ہے۔
داغ دہلوی · مہتابِ داغ (1893)، ص 10 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ
غیر لیں محفل میں بوسے جام کےہم رہیں یوں تشنہ لب پیغام کے
ghair len mehfil mein bose jaam kehum rahen yun tishna-lab paighaam ke
محفل میں رقیب جام کو چومیں اور ہم ایک پیغام کو بھی ترستے رہیں! دوسرے محبوب کی صحبت کا لطف اٹھاتے ہیں اور عاشق کو ایک بات بھی نصیب نہیں۔
مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 170 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ
دشمنی نے میری کھویا غیر کوکس قدر دشمن ہے دیکھا چاہیے
dushmani ne meri khoyaa ghair kokis qadar dushman hai dekhaa chaahiye
میری دشمنی نے رقیب کو خود ہی برباد کر دیا؛ دیکھیے وہ کتنا بڑا دشمن ہے۔ رقیب کو عاشق سے اتنی دشمنی تھی کہ اس نے محبوب کی نظر میں خود اپنا مقام کھو دیا۔
مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 177 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ
غیر پھرتا ہے لیے یوں ترے خط کو کہ اگرکوئی پوچھے کہ یہ کیا ہے تو چھپائے نہ بنے
ghair phirtaa hai liye yoon tere khat ko ke agarkoi poochhe ke ye kyaa hai to chhupaae na bane
رقیب تیرا خط اس طرح لیے پھرتا ہے کہ اگر کوئی پوچھے یہ کیا ہے تو چھپایا نہ جا سکے۔ عاشق کو شک ہے کہ رقیب جان بوجھ کر خط کی نمائش کر رہا ہے۔
مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 180 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ
جاتا ہے یار تیغ بکف غیر کی طرفاے کشتۂ ستم تری غیرت کو کیا ہوا
jaata hai yaar tegh-ba-kaf ghair ki tarafae kushta-e-sitam teri ghairat ko kya hua
محبوب ہاتھ میں تلوار لیے رقیب کی طرف جا رہا ہے۔ اے ستم کے مارے ہوئے، تیری غیرت کو کیا ہوا؟ یعنی عاشق کو اس بات پر غیرت آنی چاہیے کہ محبوب کا ستم بھی اب کسی اور کے حصے میں جا رہا ہے۔
میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 3 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ
رحم بر خصم جان غیر نہ ہوسب کا دل ایک سا نہیں ہوتا
rahm bar khasm-e-jaan-e-ghair na hosab kaa dil ek saa nahin hota
خدا کرے تم میرے جانی دشمن، یعنی رقیب، پر رحم نہ کرو؛ سب کا دل ایک جیسا نہیں ہوتا۔ عاشق چاہتا ہے کہ محبوب کی مہربانی صرف سچے عاشق کے لیے ہو، کیونکہ رقیب کا دل اس جیسا مخلص نہیں۔
مومن خان مومن · کلیاتِ مومن (1863)، ص 84 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ