ghazab

غضب

غصہ، ناراضی؛ قہر، آفت

Meaning: wrath; fury, calamity

غضب (ghazab) کا مطلب ہے: غصہ، ناراضی، یا قہر، آفت۔ یہ لفظ ہمارے ذخیرے میں ۲ اشعار میں آیا ہے۔

یہ لفظ ان اشعار میں

ہے خوف اگر جی میں تو ہے تیرے غضب سےاور دل میں بھروسا ہے تو ہے تیرے کرم کا

hai khauf agar ji mein to hai tere ghazab seaur dil mein bharosa hai to hai tere karam ka

اگر دل میں کوئی ڈر ہے تو صرف تیرے غضب کا، اور اگر کوئی بھروسا ہے تو صرف تیرے کرم کا۔ یعنی ڈر اور امید دونوں کا مرکز ایک ہی ذات ہے۔

خواجہ میر درد · دیوانِ میر درد (1922)، ص 2 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

اے ذوق ہے غضب نگہ یار الحفیظوہ کیا بچے کہ جس پہ یہ تیر قضا چلے

ae zauq hai ghazab nigah-e-yaar al-hafeezwoh kya bache ke jis pe ye teer-e-qazaa chale

اے ذوق، محبوب کی نظر قہر ہے، خدا بچائے! جس پر یہ موت کا تیر چل جائے وہ کیسے بچے؟ نظر کو ایسے تیر سے تشبیہ دی ہے جو کبھی خطا نہیں جاتا۔

شیخ ابراہیم ذوق · دیوانِ ذوق (باضافۂ غزلیات مزید) (1923)، ص 120 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

’غ‘ سے مزید الفاظ

پوری لغت