ghuroor

غرور

تکبر، گھمنڈ؛ گھمنڈ

Meaning: pride, arrogance; pride, arrogance

غرور (ghuroor) کا مطلب ہے: تکبر، گھمنڈ، یا گھمنڈ۔ یہ لفظ ہمارے ذخیرے میں ۲ اشعار میں آیا ہے۔

یہ لفظ ان اشعار میں

غرور زید کی کرتا ہے گر شکایت عمروتو سمجھو کرتا ہے اپنے غرور کا اظہار

ghuroor zaid ki kartaa hai gar shikaayat amrto samjho kartaa hai apne ghuroor kaa izhaar

زید اور عمرو عربی اور اردو کی مثالوں کے روایتی فرضی نام ہیں، جیسے “فلاں اور فلاں”۔ حالی کہتے ہیں کہ اگر عمرو، زید کے غرور کی شکایت کرے تو سمجھ لو کہ وہ دراصل اپنے غرور کا اظہار کر رہا ہے۔ دوسرے کی بڑائی سے چڑنا اکثر اس بات کی نشانی ہے کہ ہماری اپنی انا کو ٹھیس لگی ہے۔

الطاف حسین حالی · دیوانِ حالی (1922)، ص 37 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ذرا سی چیز ہے اس پر غرور کیا کہنایہ عقل اور یہ سمجھ یہ شعور کیا کہنا

zara si cheez hai us par ghuroor kya kehnayeh aql aur yeh samajh yeh shu'oor kya kehna

پہاڑ طنز سے کہتا ہے: ذرا سی چیز ہو اور اس پر اتنا غرور! واہ، کیا عقل ہے، کیا سمجھ ہے، کیا شعور ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 15 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

’غ‘ سے مزید الفاظ

پوری لغت