کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوںفکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوں
kyoon ziyaan-kaar banoon sood-faraamosh rahoonfikr-e-farda na karoon mahv-e-gham-e-dosh rahoon
میں کیوں نقصان اٹھاتا رہوں اور فائدے کو بھولا رہوں؟ کیوں آنے والے کل کی فکر نہ کروں اور گزرے کل کے غم میں ڈوبا رہوں؟ شاعر بتاتا ہے کہ وہ اب خاموش کیوں نہیں رہ سکتا۔
علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 177 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ