کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوں — علامہ محمد اقبال

کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوںفکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوں

kyoon ziyaan-kaar banoon sood-faraamosh rahoonfikr-e-farda na karoon mahv-e-gham-e-dosh rahoon

  • زیاں کار ziyaan-kaarنقصان اٹھانے والا (one who suffers loss)
  • سود فراموش sood-faraamoshفائدہ بھول جانے والا (forgetful of gain)
  • فکر فردا fikr-e-fardaآنے والے کل کی فکر (thought of tomorrow)
  • غم دوش gham-e-doshگزرے کل کا غم (grief for yesterday)

آسان تشریح

میں کیوں نقصان اٹھاتا رہوں اور فائدے کو بھولا رہوں؟ کیوں آنے والے کل کی فکر نہ کروں اور گزرے کل کے غم میں ڈوبا رہوں؟ شاعر بتاتا ہے کہ وہ اب خاموش کیوں نہیں رہ سکتا۔

In plain English

Why should I accept loss and forget my own good? Why should I not think of tomorrow and stay lost in grief for yesterday? The poet explains why he cannot stay silent any longer.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 177
کارڈ بنائیں

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم «شکوہ» سے، بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 177۔This couplet is by Allama Muhammad Iqbal, from the nazm “shikwa”, Bang-e-Dra (second printing) (1926), p. 177. It means: Why should I accept loss and forget my own good? Why should I not think of tomorrow and stay lost in grief for yesterday? The poet explains why he cannot stay silent any longer.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: وقت اور زمانہ، خودی · غلطی کی اطلاع دیں

اسی نظم کے اور اشعار پوری نظم

ملتے جلتے اشعار