dam

دم

سانس، لمحہ؛ سانس؛ تلوار کی دھار؛ طاقت؛ سانس، جان؛ وجود، ذات؛ لمحہ، سانس؛ سانس، جان؛ نیز لمحہ

Meaning: a breath, a moment; breath; also the edge of a blade; strength; breath, life; presence, being; a moment, a breath; breath, life; also moment

دم (dam) کا مطلب ہے: سانس، لمحہ، یا سانس؛ تلوار کی دھار، یا طاقت، یا سانس، جان، یا وجود، ذات، یا لمحہ، سانس، یا سانس، جان؛ نیز لمحہ۔ یہ لفظ ہمارے ذخیرے میں ۸ اشعار میں آیا ہے۔

یہ لفظ ان اشعار میں

مانند حباب آنکھ تو اے درد کھلی تھیکھینچا نہ پر اس بحر میں عرصہ کوئی دم کا

maanind-e-habaab aankh to ae Dard khuli thikhaincha na par is bahr mein arsa koi dam ka

اے درد، بلبلے کی طرح آنکھ تو کھلی تھی مگر اس سمندر میں ایک سانس جتنا وقت بھی نہ گزرا۔ بلبلہ پانی پر بنتا ہے اور فوراً پھوٹ جاتا ہے، انسان کی زندگی بھی کائنات کے سمندر میں اتنی ہی مختصر ہے۔

خواجہ میر درد · دیوانِ میر درد (1922)، ص 2 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

جذبۂ بے اختیارِ شوق دیکھا چاہیےسینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا

jazba-e-be-ikhtiyaar-e-shauq dekha chaahiyeseena-e-shamsheer se baahar hai dam shamsheer ka

شوق کا بے قابو جذبہ دیکھو کہ تلوار کا دم یعنی اس کی دھار اس کے سینے سے باہر نکل آئی ہے۔ گویا تلوار خود عاشق کو قتل کرنے کے شوق میں بے قرار ہے۔ لفظ دم کے دو معنی ہیں، سانس اور دھار، اور شاعر نے دونوں سے فائدہ اٹھایا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 1 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

سخن میں خامۂ غالبؔ کی آتش افشانییقیں ہے ہم کو بھی لیکن اب اس میں دم کیا ہے

sukhan mein khaama-e-ghaalib ki aatish-afshaaniyaqeen hai ham ko bhi lekin ab us mein dam kyaa hai

شاعری میں غالب کے قلم کی آتش فشانی پر ہمیں بھی یقین ہے، مگر اب اس میں دم کہاں؟ ایک بوڑھے شاعر کا اپنی گھٹتی ہوئی قوت پر سچا اعتراف۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 203 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ذرا کر زور سینے پر کہ تیرِ پرستم نکلےجو وہ نکلے تو دل نکلے جو دل نکلے تو دم نکلے

zara kar zor seene par ki teer-e-pur-sitam niklejo woh nikle to dil nikle, jo dil nikle to dam nikle

میرے سینے پر ذرا زور ڈالو کہ ظلم بھرا تیر نکل آئے۔ تیر نکلے گا تو ساتھ دل نکلے گا اور دل نکلے گا تو جان نکل جائے گی۔ تیر، دل اور جان آپس میں جڑے ہیں؛ عاشق زخم کے ساتھ جینے سے مرنا بہتر سمجھتا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 206 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

دور دنیا کا مرے دم سے اندھیرا ہو جائےہر جگہ میرے چمکنے سے اجالا ہو جائے

door duniya ka mire dam se andhera ho jaayehar jagah mere chamakne se ujaala ho jaaye

بچہ شمع کی مثال آگے بڑھاتا ہے: میرے وجود سے دنیا کا اندھیرا دور ہو جائے اور میرے چمکنے سے ہر جگہ روشنی پھیل جائے۔ یہاں اندھیرے سے مراد جہالت اور برائی ہے اور روشنی سے مراد علم اور نیکی۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 19 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

آیا تو سہی وہ کوئی دم کے لیے لیکنہونٹوں پہ مرے جب نفس باز پسیں تھا

aaya to sahi vo koi dam ke liye lekinhonton pe mere jab nafas-e-baaz-paseen tha

محبوب آیا تو سہی، تھوڑی دیر کے لیے، لیکن اس وقت جب میری آخری سانس ہونٹوں پر تھی۔ یعنی ملاقات تو ہوئی مگر اتنی دیر سے کہ اب اس کا کوئی فائدہ نہ تھا۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 2 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

نہ تو آیا مری سن کر فریاددم لبوں پر دم فریاد آیا

na to aayaa meri sun kar faryaaddam labon par dam-e-faryaad aayaa

تم میری فریاد سن کر بھی نہ آئے؛ فریاد کے دم ہی میرا دم لبوں پر آ گیا۔ “دم” کی تکرار میں سانس اور لمحہ دونوں معنی ہیں: محبوب کو پکارتے پکارتے عاشق کی جان نکلنے لگی۔

بہادر شاہ ظفر · کلیاتِ ظفر (1918)، ص 14 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

کیا قہر ہے وقفہ ہے ابھی آنے میں ان کےاور دم مرا جانے میں توقف نہیں کرتا

kya qahr hai waqfa hai abhi aane mein un keaur dam mera jaane mein tawaqquf nahin kartaa

کیا ستم ہے کہ ان کے آنے میں ابھی دیر ہے، اور میری جان جانے میں ذرا نہیں رکتی۔ عاشق مر رہا ہے اور آخری بار محبوب کو دیکھنا چاہتا ہے، مگر سانس انتظار نہیں کرتی۔ “وقفہ” اور “توقف” کی رعایت سے تضاد اور گہرا ہو گیا ہے۔

شیخ ابراہیم ذوق · دیوانِ ذوق (باضافۂ غزلیات مزید) (1923)، ص 22 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

’د‘ سے مزید الفاظ

پوری لغت