daagh

داغ

زخم کا نشان؛ زخم کے نشان (عشق کے)

Meaning: a scar, burn mark; scars, marks (of love's wounds)

داغ (daagh) کا مطلب ہے: زخم کا نشان، یا زخم کے نشان (عشق کے)۔ یہ لفظ ہمارے ذخیرے میں ۲ اشعار میں آیا ہے۔

یہ لفظ ان اشعار میں

دل نہیں تجھ کو دکھاتا ورنہ داغوں کی بہاراس چراغاں کا کروں کیا کارفرما جل گیا

dil nahin tujh ko dikhaata warna daaghon ki bahaaris charaaghaan ka karoon kya kaar-farma jal gaya

میں تمہیں داغوں کی بہار دکھاتا، مگر کیا کروں، اس چراغاں کا منتظم یعنی دل خود ہی جل گیا۔ عشق کے داغ چراغوں کی طرح ہیں اور انہیں سنبھالنے والا دل باقی نہیں رہا۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 4 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

داغ آنکھوں سے کھل رہے ہیں سبہاتھ دستہ ہوا ہے نرگس کا

daagh aankhon se khil rahe hain sabhaath dasta hua hai nargis ka

میرے سارے داغ آنکھوں کی طرح کھل اٹھے ہیں اور میرا ہاتھ نرگس کا گلدستہ بن گیا ہے۔ اردو شاعری میں نرگس کو آنکھ سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ عشق کے زخم ہاتھ پر ایسی آنکھیں بن گئے ہیں جو محبوب کی راہ دیکھ رہی ہیں۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 6 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

’د‘ سے مزید الفاظ

پوری لغت