be-wafa

بے وفا

وفا نہ کرنے والا؛ وفا نہ کرنے والا؛ وعدہ نہ نبھانے والا؛ وعدہ نہ نبھانے والا

Meaning: faithless; faithless one; faithless, disloyal; faithless

بے وفا (be-wafa) کا مطلب ہے: وفا نہ کرنے والا، یا وفا نہ کرنے والا، یا وعدہ نہ نبھانے والا، یا وعدہ نہ نبھانے والا۔ یہ لفظ ہمارے ذخیرے میں ۴ اشعار میں آیا ہے۔

یہ لفظ ان اشعار میں

ہاں وہ نہیں خدا پرست، جاؤ وہ بے وفا سہیجس کو ہو دین و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں

haan woh nahin khuda-parast, jaao woh be-wafa sahijis ko ho deen-o-dil azeez us ki gali mein jaae kyun

ہاں، وہ خدا پرست نہیں، مان لیا وہ بے وفا ہے۔ مگر جسے اپنا دین اور دل عزیز ہو وہ اس کی گلی میں جائے ہی کیوں؟ شاعر نکتہ چینوں کو جواب دیتا ہے کہ اگر دل کا ڈر ہے تو دور رہو۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 108 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

پھر اسی بے وفا پہ مرتے ہیںپھر وہی زندگی ہماری ہے

phir usi be-vafaa pe marte hainphir vahi zindagi hamaari hai

پھر اسی بے وفا پر جان دیتے ہیں؛ پھر وہی پرانی زندگی ہماری ہے۔ عاشق جانتا ہے کہ محبوب بدلے گا نہیں، پھر بھی اسی پرانی محبت میں گرفتار ہو جاتا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 152 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

بے وفا کہنے کی شکایت ہےتو بھی وعدہ وفا نہیں ہوتا

be-wafaa kehne ki shikaayat haito bhi waada wafaa nahin hota

محبوب کو شکایت ہے کہ عاشق اسے بے وفا کہتا ہے۔ عاشق جواب دیتا ہے کہ پھر بھی تمہارا وعدہ تو کبھی پورا نہیں ہوتا۔ بات چیت کے انداز میں خوبصورت جواب ہے: اگر یہ نام برا لگتا ہے تو ایسا کام بھی نہ کرو۔

مومن خان مومن · کلیاتِ مومن (1863)، ص 83 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

اب نہ دیجے ظفر کسی کو دلکہ جسے دیکھا بے وفا دیکھا

ab na deeje zafar kisi ko dilke jise dekhaa be-wafaa dekhaa

ظفر، اب کسی کو دل نہ دیجیے، کہ جسے دیکھا بے وفا ہی دیکھا۔ لمبے تجربے سے نکلا ہوا تلخ اور سادہ نتیجہ ہے۔

بہادر شاہ ظفر · کلیاتِ ظفر (1918)، ص 5 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

’ب‘ سے مزید الفاظ

پوری لغت