دل کا نہیں ٹھکانا بابت جگر کی گم ہےتیرے بلاکشوں کا ہم نے حساب دیکھا
dil ka nahin thikaana baabat jigar ki gum haitere balaa-kashon ka ham ne hisaab dekha
ہم نے تیرے عاشقوں کا حساب دیکھا تو نہ دل کا کہیں پتا تھا اور نہ جگر کا خانہ ملا۔ شاعر حساب کتاب کی زبان استعمال کرتا ہے کہ عشق میں سب کچھ خرچ ہو چکا، کچھ باقی نہیں بچا۔
میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 7 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ