نکتہ چیں ہے غمِ دل اس کو سنائے نہ بنےکیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے
nukta-cheen hai gham-e-dil us ko sunaae na banekyaa bane baat jahaan baat banaae na bane
محبوب ہر بات میں عیب نکالتا ہے، اس لیے دل کا غم سنانا بھی ممکن نہیں۔ جہاں بات بنانے سے بھی بات نہ بنے وہاں کام کیسے بنے؟ عاشق پھنسا ہوا ہے کیونکہ اس کے ہر لفظ پر اعتراض ہوگا۔
مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 179 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ