gul

گل

پھول

Meaning: flower

گل (gul) کا مطلب ہے: پھول۔ یہ لفظ ہمارے ذخیرے میں ۲ اشعار میں آیا ہے۔

یہ لفظ ان اشعار میں

پانی کو چھو رہی ہو جھک جھک کے گل کی ٹہنیجیسے حسین کوئی آئینہ دیکھتا ہو

paani ko chhoo rahi ho jhuk jhuk ke gul ki tahnijaise haseen koi aaeena dekhta ho

پھول کی شاخ بار بار جھک کر پانی کو چھو رہی ہو، جیسے کوئی حسین آئینہ دیکھ رہا ہو۔ ندی آئینہ بن جاتی ہے اور شاخ اس میں اپنا عکس دیکھتی ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 36 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

نالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوںہم نوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوں

naale bulbul ke sunoon aur hama-tan gosh rahoonham-nawa main bhi koi gul hoon ki khaamosh rahoon

کیا میں بس بلبل کی فریادیں سنتا رہوں اور ہمہ تن گوش بنا رہوں؟ اے دوست، کیا میں کوئی پھول ہوں کہ خاموش رہوں؟ پھول بول نہیں سکتا، مگر شاعر بول سکتا ہے، اس لیے اسے آواز اٹھانی ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 177 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

’گ‘ سے مزید الفاظ

پوری لغت