gila

گلا

شکایت

Meaning: complaint

گلا (gila) کا مطلب ہے: شکایت۔ یہ لفظ ہمارے ذخیرے میں ۲ اشعار میں آیا ہے۔

یہ لفظ ان اشعار میں

جمع کرتے ہو کیوں رقیبوں کواک تماشا ہوا، گلا نہ ہوا

jama karte ho kyun raqeebon koik tamaasha hua, gila na hua

میں شکایت کرتا ہوں تو تم رقیبوں کو کیوں جمع کر لیتے ہو؟ اس طرح میری شکایت تماشا بن گئی، شکایت نہ رہی۔ عاشق چاہتا ہے کہ بات صرف دونوں کے درمیان رہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 26 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

جب توقع ہی اٹھ گئی غالبؔکیوں کسی کا گلا کرے کوئی

jab tavaqqo hi uth gai ghaalibkyon kisi kaa gilaa kare koi

غالب، جب کسی سے امید ہی نہ رہی تو کوئی کسی کی شکایت کیوں کرے؟ شکایت ٹوٹی ہوئی امید سے پیدا ہوتی ہے؛ امید ہی نہ ہو تو گلے کی گنجائش نہیں رہتی۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 203 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

’گ‘ سے مزید الفاظ

پوری لغت