gul-e-tar

گلِ تر

تازہ پھول

Meaning: a fresh flower

گلِ تر (gul-e-tar) کا مطلب ہے: تازہ پھول۔ یہ لفظ ہمارے ذخیرے میں ۱ اشعار میں آیا ہے۔

یہ لفظ ان اشعار میں

باغ میں مجھ کو نہ لے جا ورنہ میرے حال پرہر گلِ تر ایک چشمِ خوں فشاں ہو جائے گا

baagh mein mujh ko na le ja warna mere haal parhar gul-e-tar ek chashm-e-khoon-fishaan ho jaayega

مجھے باغ میں نہ لے جاؤ، ورنہ میرا حال دیکھ کر ہر تازہ پھول خون کے آنسو روتی آنکھ بن جائے گا۔ سرخ پھول کو روتی آنکھ کہا گیا ہے، یعنی فطرت بھی عاشق کے حال پر رو دے گی۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 26 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

’گ‘ سے مزید الفاظ

پوری لغت