رات دن گردش میں ہیں سات آسماںہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا
raat din gardish mein hain saat aasmaanho rahega kuchh na kuchh ghabraaen kya
ساتوں آسمان دن رات گردش میں ہیں، کچھ نہ کچھ ہو ہی رہے گا، پھر گھبرانا کیسا؟ زمانہ بدلتا رہتا ہے اور فکر کرنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ مشکل وقت میں حوصلے کے لیے یہ شعر بہت پڑھا جاتا ہے۔
مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 43 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ