giriya

گریہ

رونا

Meaning: weeping

گریہ (giriya) کا مطلب ہے: رونا۔ یہ لفظ ہمارے ذخیرے میں ۲ اشعار میں آیا ہے۔

یہ لفظ ان اشعار میں

گریہ چاہے ہے خرابی مرے کاشانے کیدر و دیوار سے ٹپکے ہے بیاباں ہونا

giriya chaahe hai kharaabi mere kaashaane kidar-o-deewaar se tapke hai bayaabaan hona

میرا رونا میرے گھر کو برباد کرنا چاہتا ہے؛ اس کے در و دیوار سے ویرانہ بن جانے کے آثار ٹپک رہے ہیں۔ اتنے آنسو بہے کہ گھر خود ویرانی میں بدلتا دکھائی دیتا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 16 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ضعف سے گریہ مبدل بہ دمِ سرد ہواباور آیا ہمیں پانی کا ہوا ہو جانا

zoaf se giriya mubaddal ba-dam-e-sard huabaavar aaya hamen paani ka hawa ho jaana

کمزوری سے رونا ٹھنڈی آہوں میں بدل گیا۔ اب ہمیں یقین آ گیا کہ پانی ہوا بن جاتا ہے۔ عاشق اتنا کمزور ہے کہ رو بھی نہیں سکتا، صرف آہ بھرتا ہے، اور اسی پر لطیف مذاق کرتا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 45 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

’گ‘ سے مزید الفاظ

پوری لغت