goya

گویا

جیسے؛ جیسے، مانو

Meaning: as if; as if, as though

گویا (goya) کا مطلب ہے: جیسے، یا جیسے، مانو۔ یہ لفظ ہمارے ذخیرے میں ۲ اشعار میں آیا ہے۔

یہ لفظ ان اشعار میں

اقبال کا ترانہ بانگ درا ہے گویاہوتا ہے جادہ پیما پھر کارواں ہمارا

iqbaal ka taraana baang-e-dara hai goyahota hai jaada-paima phir kaarwaan hamaara

اقبال کا ترانہ گویا قافلے کی گھنٹی ہے؛ ہمارا قافلہ پھر سفر پر روانہ ہو رہا ہے۔ پوری کتاب کا نام 'بانگ درا' اسی تصور سے ہے، یعنی وہ گھنٹی جو قافلے کو چلنے کا اشارہ دیتی ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 173 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

تم مرے پاس ہوتے ہو گویاجب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

tum mere paas hote ho goyaajab koi doosraa nahin hota

جب میرے پاس کوئی اور نہیں ہوتا تو گویا تم میرے پاس ہوتے ہو۔ تنہائی میں عاشق کا دھیان پوری طرح محبوب کی طرف ہوتا ہے، اس لیے غیر حاضر محبوب حاضر محسوس ہوتا ہے۔ ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ جب دل میں کوئی دوسرا نہ ہو تو وہاں تم ہی ہوتے ہو۔ یہ شعر کم اور سادہ الفاظ میں گہری بات کہنے کی مثال ہے۔

مومن خان مومن · کلیاتِ مومن (1863)، ص 84 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

’گ‘ سے مزید الفاظ

پوری لغت