bosa

بوسہ

چوما؛ چومنا

Meaning: a kiss; a kiss

بوسہ (bosa) کا مطلب ہے: چوما، یا چومنا۔ یہ لفظ ہمارے ذخیرے میں ۳ اشعار میں آیا ہے۔

یہ لفظ ان اشعار میں

بوسہ کیسا کہ گلوری بھی نہیں پاتا ہوںبس کلام اپنا انھیں جا کے سنا آتا ہوں

bosa kaisaa ke gilauri bhi nahin paataa hoonbas kalaam apnaa unhein jaa ke sunaa aataa hoon

شاعر کہتا ہے کہ بوسہ تو دور کی بات، مجھے تو پان کی گلوری بھی نہیں ملتی۔ بس جا کر انھیں اپنا کلام سنا آتا ہوں۔ اکبر غزل کے روایتی عاشق پر ہنستے ہیں کہ حقیقت میں اس کا سارا عشق ایک شریفانہ ادبی ملاقات پر ختم ہو جاتا ہے۔

اکبر الہ آبادی · کلیاتِ اکبر الہ آبادی، حصہ اول (1931)، ص 245 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

لے تو لوں سوتے میں اس کے پاؤں کا بوسہ مگرایسی باتوں سے وہ کافر بدگماں ہو جائے گا

le to loon sote mein us ke paaon ka bosa magaraisi baaton se woh kaafir bad-gumaan ho jaayega

میں سوتے میں اس کے پاؤں چوم تو لوں، مگر ایسی باتوں سے وہ بے رحم محبوب مجھ سے بدگمان ہو جائے گا۔ عاشق ڈرتا ہے کہ کہیں محبوب کا اعتبار نہ کھو دے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 25 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

بوسہ دیتے نہیں اور دل پہ ہے ہر لحظہ نگاہجی میں کہتے ہیں کہ مفت آئے تو مال اچھا ہے

bosa dete nahin aur dil pe hai har lahza nigaahjee mein kehte hain ki muft aae to maal achchha hai

محبوب بوسہ تو نہیں دیتا مگر ہر لمحہ ہمارے دل پر نظر رکھتا ہے اور دل میں سوچتا ہے کہ مفت ملے تو مال اچھا ہے۔ یہ اس محبوب کی شوخ تصویر ہے جو سب کچھ لینا چاہتا ہے اور دیتا کچھ نہیں۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 169 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

’ب‘ سے مزید الفاظ

پوری لغت