اسے کون دیکھ سکتا کہ یگانہ ہے وہ یکتا — مرزا غالب

اسے کون دیکھ سکتا کہ یگانہ ہے وہ یکتاجو دوئی کی بو بھی ہوتی تو کہیں دو چار ہوتا

use kaun dekh sakta ki yagaana hai woh yaktajo dui ki boo bhi hoti to kaheen do-chaar hota

  • یگانہ yagaanaاکیلا، بے مثل (unique, without equal)
  • یکتا yaktaایک، جس جیسا کوئی نہیں (the only one)
  • دوئی duiدو ہونا، دوسرا پن (duality, being two)
  • دو چار ہوتا do-chaar hotaآمنا سامنا ہونا (to come face to face)

آسان تشریح

اس ذات کو کون دیکھ سکتا ہے، وہ یکتا اور بے مثل ہے۔ اگر اس میں دوئی کی ذرا سی بھی بو ہوتی تو کہیں نہ کہیں ہم سے آمنا سامنا ہو جاتا۔ شعر خدا کی وحدانیت کے بارے میں ہے اور اس میں ایک، دو اور چار کے لفظوں کا خوب صورت کھیل ہے۔

In plain English

Who can see Him? He is One, without any equal. If there were even a trace of 'two-ness' in Him, we would have met Him somewhere face to face. The couplet is about God's oneness, with a play on the words 'one', 'two' and 'four'.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 20
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 20۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “ye na thi hamaari qismat ki visaal-e-yaar hota”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 20. It means: Who can see Him? He is One, without any equal. If there were even a trace of 'two-ness' in Him, we would have met Him somewhere face to face. The couplet is about God's oneness, with a play on the words 'one', 'two' and 'four'.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: ایمان اور خدا · غلطی کی اطلاع دیں

اسی غزل کے اور اشعار پوری غزل

ملتے جلتے اشعار