zulf

زلف

بالوں کی لٹ؛ گیسو

Meaning: a lock of hair, tresses; tresses

زلف (zulf) کا مطلب ہے: بالوں کی لٹ، یا گیسو۔ یہ لفظ ہمارے ذخیرے میں ۲ اشعار میں آیا ہے۔

یہ لفظ ان اشعار میں

تو جو اے زلف پریشان رہا کرتی ہےکس کے اجڑے ہوئے دل میں ہے ٹھکانا تیرا

tu jo ae zulf pareshaan rahaa karti haikis ke ujre hue dil mein hai thikaanaa tera

شاعر محبوب کی زلف سے مخاطب ہے جو ہمیشہ بکھری رہتی ہے۔ “پریشان” کے دو معنی ہیں، بکھرا ہوا اور بے چین، اس لیے وہ پوچھتا ہے کہ تو کس کے اجڑے دل میں رہتی ہے کہ ہر وقت پریشان رہتی ہے؟ اشارہ یہ ہے کہ زلف نے اپنے اسیر عاشقوں کی بے چینی اپنا لی ہے۔

داغ دہلوی · مہتابِ داغ (1893)، ص 14 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ہو رہا ہے جہان میں اندھیرزلف کی پھر سرشتہ داری ہے

ho rahaa hai jahaan mein andherzulf ki phir sarishta-daari hai

دنیا میں اندھیر مچا ہے کیونکہ زلف پھر عدالت کی سرشتہ دار بن گئی ہے۔ ’’اندھیر‘‘ کے دو معنی ہیں: اندھیرا اور ظلم، اور سیاہ زلف عدالت چلا رہی ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 153 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

’ز‘ سے مزید الفاظ

پوری لغت