اک عمر چاہیے کہ گوارا ہو نیش عشقرکھی ہے آج لذت زخم جگر کہاں
ik umr chaahiye ke gawaaraa ho nesh-e-ishqrakkhi hai aaj lazzat-e-zakhm-e-jigar kahaan
عشق کا ڈنک گوارا ہونے کے لیے ایک عمر چاہیے۔ آج، نئے نئے عاشق کو زخمِ جگر کی لذت کہاں نصیب۔ حالی کہتے ہیں کہ عشق کی گہری لذتیں، ہر مشکل ریاضت کی طرح، وقت اور صبر کے بعد ہی ملتی ہیں۔
الطاف حسین حالی · دیوانِ حالی (1922)، ص 87 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ