zor

زور

بہت زیادہ، کیا خوب؛ اختیار

Meaning: truly, exceedingly; control, force

زور (zor) کا مطلب ہے: بہت زیادہ، کیا خوب، یا اختیار۔ یہ لفظ ہمارے ذخیرے میں ۲ اشعار میں آیا ہے۔

یہ لفظ ان اشعار میں

زور عاشق مزاج ہے کوئیدرد کو قصہ مختصر دیکھا

zor aashiq-mizaaj hai koiDard ko qissa-mukhtasar dekha

یہ درد بھی کیا عاشق مزاج آدمی ہے، قصہ مختصر ہم نے درد کو یہی پایا۔ مقطع میں پوری غزل کا خلاصہ ایک بات میں کہہ دیا گیا ہے۔

خواجہ میر درد · دیوانِ میر درد (1922)، ص 4 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالبؔکہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے

ishq par zor nahin hai ye voh aatish ghaalibke lagaae na lage aur bujhaae na bane

غالب، عشق پر کسی کا اختیار نہیں؛ یہ ایسی آگ ہے جو لگانے سے نہیں لگتی اور بجھانے سے نہیں بجھتی۔ عشق اپنی مرضی سے آتا ہے اور اپنی مرضی سے رہتا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 180 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

’ز‘ سے مزید الفاظ

پوری لغت