تجھ سے قسمت میں مری صورتِ قفلِ ابجدتھا لکھا بات کے بنتے ہی جدا ہو جانا
tujh se qismat mein meri soorat-e-qufl-e-abjadtha likha baat ke bante hi juda ho jaana
میری قسمت میں تم سے جدائی ایسے لکھی تھی جیسے حروف والے تالے میں ہوتا ہے کہ صحیح لفظ بنتے ہی تالا کھل کر الگ ہو جاتا ہے۔ یعنی جب بات بننے لگی تو ہم جدا ہو گئے۔
مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 44 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ
کوئی امید بر نہیں آتیکوئی صورت نظر نہیں آتی
koi ummeed bar nahin aatikoi soorat nazar nahin aati
کوئی امید پوری نہیں ہوتی اور کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا۔ مطلع میں مکمل بے بسی کی کیفیت بیان کی گئی ہے۔
مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 147 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ
چاہتے ہیں خوب رویوں کو اسدؔآپ کی صورت تو دیکھا چاہیے
chaahte hain khoob-rooyon ko asadaap ki soorat to dekhaa chaahiye
اسد، آپ حسینوں کو چاہتے ہیں؟ ذرا اپنی صورت تو دیکھیے! غالب اپنے پرانے تخلص سے خود پر ہی مذاق کرتے ہوئے غزل ختم کرتے ہیں۔
مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 178 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ
ہوتی ہے اسے آپ کی صورت سے محبتہو جس نے کبھی ایک نظر آپ کو دیکھا
hoti hai use aap ki soorat se mohabbatho jis ne kabhi ek nazar aap ko dekhaa
جس نے آپ کو ایک نظر بھی دیکھا اسے آپ کی صورت سے محبت ہو جاتی ہے۔ مزید خوشامد۔
علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 14 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میریزندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری
lab pe aati hai duaa ban ke tamanna merizindagi shamaa ki soorat ho khudaaya meri
بچہ کہتا ہے کہ میری آرزو دعا بن کر ہونٹوں پر آتی ہے۔ دعا یہ ہے کہ اے خدا میری زندگی شمع جیسی ہو۔ شمع خود جلتی ہے مگر دوسروں کو روشنی دیتی ہے، اسی طرح میری زندگی بھی دوسروں کے کام آئے۔
علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 19 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ