آرزو ہی نہ رہی صبح وطن کی مجھ کوشام غربت ہے عجب وقت سہانا تیرا
aarzoo hi na rahi subh-e-watan ki mujh koshaam-e-ghurbat hai ajab waqt suhaanaa tera
عام طور پر پردیسی کو وطن یاد آتا ہے، مگر یہاں شاعر کہتا ہے کہ پردیس کی شام اتنی سہانی ہو گئی ہے کہ اب وطن کی صبح کی آرزو بھی نہیں رہی۔ وجہ کہی نہیں گئی مگر واضح ہے: محبوب یہاں ہے، اس لیے پردیس ہی وطن بن گیا ہے۔
داغ دہلوی · مہتابِ داغ (1893)، ص 14 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ