دل کو ہم صرفِ وفا سمجھے تھے کیا معلوم تھایعنی یہ پہلے ہی نذرِ امتحاں ہو جائے گا
dil ko hum sarf-e-wafa samjhe the kya maaloom thayaani ye pehle hi nazr-e-imtihaan ho jaayega
ہم سمجھے تھے کہ دل وفا میں کام آئے گا، کیا معلوم تھا کہ یہ پہلی ہی آزمائش میں قربان ہو جائے گا۔ یعنی دل محبت کرنے سے پہلے ہی ٹوٹ گیا۔
مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 25 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ