parwaa

پروا

فکر، خیال؛ فکر؛ فکر

Meaning: care, concern; concern, care; concern

پروا (parwaa) کا مطلب ہے: فکر، خیال، یا فکر، یا فکر۔ یہ لفظ ہمارے ذخیرے میں ۳ اشعار میں آیا ہے۔

یہ لفظ ان اشعار میں

تو ہی اپنے ہاتھ سے جب دلربا جاتا رہادل کی بھی پروا نہیں جاتا رہا جاتا رہا

tu hi apne haath se jab dilrubaa jaata rahaadil ki bhi parwaa nahin jaata rahaa jaata rahaa

شاعر کہتا ہے کہ جب اے دلربا، تو ہی میرے ہاتھ سے نکل گیا تو اب دل کی بھی کیا فکر؟ گیا تو جانے دو۔ محبوب کو کھو دینا اتنا بڑا نقصان ہے کہ اس کے سامنے ہر دوسرا نقصان چھوٹا لگتا ہے۔

داغ دہلوی · مہتابِ داغ (1893)، ص 13 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

جو میں بڑی نہیں تیری طرح تو کیا پروانہیں ہے تو بھی تو آخر مری طرح چھوٹا

jo main bari nahin teri tarah to kya parwanahin hai tu bhi to aakhir miri tarah chhota

اگر میں تمہاری طرح بڑی نہیں تو کیا فکر؟ آخر تم بھی تو میری طرح چھوٹے نہیں ہو۔ گلہری پہاڑ کی دلیل اسی پر الٹ دیتی ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 15 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

نہ پروا ہماری ذرا تم نے کیگئے چھوڑ، اچھی وفا تم نے کی

na parvaa hamaari zaraa tum ne kigaye chhor, achchhi vafaa tum ne ki

تم نے ہماری ذرا بھی پروا نہ کی؛ چھوڑ کر چلے گئے، خوب وفا کی! یہ پیار بھری شکایت ہے جیسے ماں بچے کو ڈانٹتی ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 22 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

’پ‘ سے مزید الفاظ

پوری لغت