داغ کو یوں وہ مٹاتے ہیں یہ فرماتے ہیںتو بدل ڈال ہوا نام پرانا تیرا
daagh ko yoon woh mitaate hain ye farmaate haintu badal daal hua naam puraanaa tera
مقطع میں شاعر اپنے تخلص سے کھیلتا ہے، کیونکہ “داغ” کا مطلب دھبہ یا زخم کا نشان بھی ہے۔ محبوب اسے مٹانا چاہتا ہے اور کہتا ہے کہ اپنا نام بدل ڈالو، یہ پرانا ہو گیا ہے۔ داغ کو مٹانا دھبہ مٹانے جیسا ہے، اس لیے یہ شعر مزاح بھی ہے اور نظرانداز کیے جانے کی شکایت بھی۔
داغ دہلوی · مہتابِ داغ (1893)، ص 14 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ