بے خودی بے سبب نہیں غالبؔکچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے
bekhudi be-sabab nahin ghaalibkuchh to hai jis ki parda-daari hai
غالب، یہ بے خودی بلاوجہ نہیں؛ کچھ تو ہے جسے یہ چھپا رہی ہے۔ یہ مصرع اس وقت دہرایا جاتا ہے جب کسی کا عجیب رویہ صاف بتا رہا ہو کہ پیچھے کوئی راز ہے۔
مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 153 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ