ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھےآتے ہیں جو کام دوسروں کے
hain log wahi jahaan mein achchheaate hain jo kaam doosron ke
نظم کا سبق یہ ہے کہ دنیا میں اچھے لوگ وہی ہیں جو دوسروں کے کام آتے ہیں۔ یہ آخری شعر اکثر الگ سے بھی پڑھا جاتا ہے۔
علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 21 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہماراہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا
saare jahaan se achchha hindostaan hamaaraham bulbulen hain is ki yeh gulsitaan hamaara
ہمارا ہندوستان ساری دنیا سے اچھا ہے؛ ہم اس کی بلبلیں ہیں اور یہ ہمارا باغ ہے۔ وطن باغ ہے اور اس کے لوگ اس میں گانے والے پرندے۔
علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 82 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیںیہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
ki muhammad se wafa tu ne to ham tere hainyeh jahaan cheez hai kya lauh-o-qalam tere hain
اگر تو نے محمدؐ سے وفا کی تو ہم تیرے ہیں؛ یہ دنیا کیا چیز ہے، لوح و قلم بھی تیرے ہیں۔ نظم کے آخری مصرعوں میں یہ بشارت ہے کہ حضورؐ سے وفاداری دنیا ہی نہیں، تقدیر پر بھی اختیار دیتی ہے۔
علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 232 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ
خوب دیکھا جہاں کے خوباں کوایک تجھ سا نہ دوسرا دیکھا
khoob dekhaa jahaan ke khoobaan koek tujh saa na doosraa dekhaa
میں نے دنیا کے حسینوں کو خوب غور سے دیکھا، مگر تجھ جیسا کوئی دوسرا نہ دیکھا۔ “خوب” اور “خوباں” کی رعایت سے مصرع میں موسیقیت پیدا ہوئی ہے۔
بہادر شاہ ظفر · کلیاتِ ظفر (1918)، ص 5 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ