تم سے بے جا ہے مجھے اپنی تباہی کا گلہاس میں کچھ شائبۂ خوبیِ تقدیر بھی تھا
tum se be-ja hai mujhe apni tabaahi ka gilais mein kuchh shaaiba-e-khoobi-e-taqdeer bhi tha
تم سے اپنی بربادی کی شکایت کرنا غلط ہے، اس میں کچھ ہماری اچھی قسمت کا بھی ہاتھ تھا۔ تقدیر کی تعریف طنز ہے؛ عاشق محبوب کو الزام دینے کے بجائے قسمت کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔
مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 34 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ