but

بت

مورتی؛ مراد حسین محبوب؛ مورتی؛ یہاں حسین محبوب

Meaning: idol; here, the beautiful beloved; idol; here the beautiful beloved

بت (but) کا مطلب ہے: مورتی؛ مراد حسین محبوب، یا مورتی؛ یہاں حسین محبوب۔ یہ لفظ ہمارے ذخیرے میں ۲ اشعار میں آیا ہے۔

یہ لفظ ان اشعار میں

سن کے اللہ کی تعریف کہا اس بت نےتو نے ہم میں تو کوئی عیب نکالا ہوتا

sun ke allaah ki tareef kahaa us but netu ne ham mein to koi aib nikaalaa hota

شاعر نے اللہ کی تعریف کی تو مغرور محبوب، جسے اردو شاعری میں “بت” کہا جاتا ہے، بول اٹھا کہ تم ہم میں کوئی عیب تو نکال کر دکھاتے۔ یعنی جیسے خدا بے عیب ہے ویسے ہی ہم بھی بے عیب ہیں، ہو سکے تو ہم میں کوئی خامی ڈھونڈ کر دکھاؤ۔ لطف محبوب کے غرور میں ہے۔

داغ دہلوی · مہتابِ داغ (1893)، ص 10 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

دیکھیے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیضاک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے

dekhiye paate hain ushshaaq buton se kya faizik brahman ne kaha hai ki ye saal achchha hai

دیکھیں اس سال عاشقوں کو حسینوں سے کیا فائدہ ملتا ہے، ایک برہمن نجومی نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے۔ عاشق ہر اچھی پیش گوئی کا سہارا لیتا ہے، کچھ امید سے اور کچھ مذاق میں۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 169 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

’ب‘ سے مزید الفاظ

پوری لغت