bekaar

بیکار

بے روزگار؛ فضول، بے فائدہ

Meaning: without a job, idle; in vain

بیکار (bekaar) کا مطلب ہے: بے روزگار، یا فضول، بے فائدہ۔ یہ لفظ ہمارے ذخیرے میں ۲ اشعار میں آیا ہے۔

یہ لفظ ان اشعار میں

نوکروں پر جو گزرتی ہے مجھے معلوم ہےبس کرم کیجے مجھے بیکار رہنے دیجیے

naukaron par jo guzarti hai mujhe maaloom haibas karam keeje mujhe bekaar rahne deejiye

کوئی شاعر کو نوکری دلانا چاہتا ہے۔ وہ ادب سے انکار کرتا ہے کہ نوکروں پر جو گزرتی ہے وہ مجھے معلوم ہے، بس مہربانی کیجیے اور مجھے بیکار ہی رہنے دیجیے۔ اکبر انگریزی دور میں نوکری کی دوڑ پر ہنستے ہیں جہاں عہدہ اکثر ذلت کے ساتھ ملتا تھا۔

اکبر الہ آبادی · کلیاتِ اکبر الہ آبادی، حصہ اول (1931)، ص 255 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

تیشۂ فرہاد نے بیکار سنبھالا اے عشقکام بنتا جو ذرا دل کو سنبھالا ہوتا

teesha-e-farhaad ne bekaar sambhaalaa ae ishqkaam bantaa jo zaraa dil ko sambhaalaa hota

فرہاد نے شیریں کو پانے کے لیے تیشے سے پہاڑ کاٹا اور جان دے دی۔ شاعر کہتا ہے کہ اے عشق، فرہاد نے تیشہ بیکار سنبھالا، اگر وہ ذرا اپنے دل کو سنبھال لیتا تو کام بن جاتا۔ لفظ “سنبھالنا” کے دو معنی، اوزار تھامنا اور دل کو قابو میں رکھنا، یہ بتاتے ہیں کہ ضبط بہادری سے زیادہ مشکل اور زیادہ کارآمد ہے۔

داغ دہلوی · مہتابِ داغ (1893)، ص 10 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

’ب‘ سے مزید الفاظ

پوری لغت