bas-ki

بس کہ

چونکہ، اس قدر کہ؛ چونکہ، اس قدر

Meaning: since, so much so that; since, so much

بس کہ (bas-ki) کا مطلب ہے: چونکہ، اس قدر کہ، یا چونکہ، اس قدر۔ یہ لفظ ہمارے ذخیرے میں ۲ اشعار میں آیا ہے۔

یہ لفظ ان اشعار میں

بس کہ ہوں غالب اسیری میں بھی آتش زیرِ پاموئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا

bas-ki hoon Ghalib aseeri mein bhi aatish zer-e-paamoo-e-aatish-deeda hai halqa meri zanjeer ka

غالب! میں قید میں بھی ایسا بے چین ہوں جیسے پاؤں تلے آگ ہو۔ میری زنجیر کی ہر کڑی آگ میں جلے ہوئے بال کی طرح مڑ گئی ہے۔ جلا ہوا بال کمزور ہو کر ٹوٹ جاتا ہے، یعنی ایسی بے قرار روح کو زنجیر نہیں روک سکتی۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 1 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہوناآدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

bas-ki dushwaar hai har kaam ka aasaan honaaadmi ko bhi muyassar nahin insaan hona

ہر کام کا آسان ہونا اتنا مشکل ہے کہ آدمی کو بھی سچا انسان بننا نصیب نہیں ہوتا۔ یعنی آدمی پیدا ہونا آسان ہے، مگر حقیقی انسانیت کے ساتھ جینا عمر بھر کی محنت ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 16 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

’ب‘ سے مزید الفاظ

پوری لغت