balaa

بلا

مصیبت؛ مصیبت، آفت

Meaning: calamity; a calamity

بلا (balaa) کا مطلب ہے: مصیبت، یا مصیبت، آفت۔ یہ لفظ ہمارے ذخیرے میں ۲ اشعار میں آیا ہے۔

یہ لفظ ان اشعار میں

کچھ قیامت تو نہ تھی ہجر کی شب اے تقدیراس بلا کو کسی تدبیر سے ٹالا ہوتا

kuchh qayaamat to na thi hijr ki shab ae taqdeeris balaa ko kisi tadbeer se taalaa hota

شاعر تقدیر سے کہتا ہے کہ جدائی کی رات کوئی قیامت تو نہ تھی جسے کوئی روک نہ سکے۔ یہ تو ایک عام سی مصیبت تھی، تو اسے کسی تدبیر سے ٹال دیتی۔ یہ تقدیر سے نرم سی شکایت ہے کہ اس نے کوشش بھی نہ کی۔

داغ دہلوی · مہتابِ داغ (1893)، ص 10 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

کہوں کس سے میں کہ کیا ہے، شبِ غم بری بلا ہےمجھے کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا

kahoon kis se main ki kya hai, shab-e-gham buri bala haimujhe kya bura tha marna agar ek baar hota

کس سے کہوں کہ غم کی رات کیا ہوتی ہے، یہ بڑی مصیبت ہے۔ اگر موت ایک ہی بار آتی تو مجھے برا نہ لگتا، مگر غم کی ہر رات بار بار مرنے جیسی ہے۔ یعنی مسلسل دکھ ایک موت سے زیادہ سخت ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 20 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

’ب‘ سے مزید الفاظ

پوری لغت