نام آج کوئی یاں نہیں لیتا ہے انھوں کاجن لوگوں کے کل ملک یہ سب زیر نگیں تھا
naam aaj koi yaan nahin leta hai unhon kajin logon ke kal mulk ye sab zer-e-nageen tha
آج یہاں ان لوگوں کا کوئی نام بھی نہیں لیتا جن کی کل تک اس سارے ملک پر حکومت تھی۔ میر نے دہلی کے حکمرانوں کا زوال اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ شعر بتاتا ہے کہ طاقت اور شہرت ہمیشہ نہیں رہتی۔
میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 2 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ