تھا سراپا روح تو بزم سخن پیکر ترازیب محفل بھی رہا محفل سے پنہاں بھی رہا
tha saraapa rooh tu bazm-e-sukhan paikar tirazeb-e-mehfil bhi raha mehfil se pinhaan bhi raha
تو سراپا روح تھا اور شاعری کی محفل تیرا جسم تھی۔ تو محفل کی رونق بھی رہا اور اس سے چھپا بھی رہا۔ یعنی غالب سب کے سامنے تھا مگر اس کی گہری بات عام لوگوں کی سمجھ سے دور رہی۔
علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 9 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ