naala

نالہ

رونا، فریاد؛ فریاد، رونا؛ فریاد

Meaning: lament; a lament; lament, cry

نالہ (naala) کا مطلب ہے: رونا، فریاد، یا فریاد، رونا، یا فریاد۔ یہ لفظ ہمارے ذخیرے میں ۳ اشعار میں آیا ہے۔

یہ لفظ ان اشعار میں

نالہ فریاد آہ اور زاریآپ سے ہو سکا سو کر دیکھا

naala fariyaad aah aur zaariaap se ho saka so kar dekha

رونا، فریاد کرنا، آہیں بھرنا اور گڑگڑانا، جو کچھ ہم سے ہو سکا ہم نے کر کے دیکھ لیا۔ عاشق نے ہر طریقہ آزما لیا مگر نتیجہ نہیں نکلا۔

خواجہ میر درد · دیوانِ میر درد (1922)، ص 4 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

دوست دارِ دشمن ہے اعتمادِ دل معلومآہ بے اثر دیکھی، نالہ نارسا پایا

dost-daar-e-dushman hai etimaad-e-dil maaloomaah be-asar dekhi, naala naa-rasaa paaya

دل تو دشمن کا دوست نکلا، اس پر بھروسا کیسا۔ میری آہ بے اثر رہی اور فریاد محبوب تک نہ پہنچی۔ یعنی عشق میں اپنا دل اور اپنی آواز بھی ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 3 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

نالہ ہے بلبل شوریدہ ترا خام ابھیاپنے سینے میں اسے اور ذرا تھام ابھی

naala hai bulbul-e-shoreeda tira khaam abhiapne seene mein ise aur zara thaam abhi

اے دیوانی بلبل، تیری فریاد ابھی کچی ہے؛ اسے کچھ دیر اور اپنے سینے میں روک کر رکھ۔ یعنی جذبہ پختہ ہو کر ظاہر ہو تو اثر کرتا ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 318 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

’ن‘ سے مزید الفاظ

پوری لغت