منحصر مرنے پہ ہو جس کی امیدناامیدی اس کی دیکھا چاہیے
munhasir marne pe ho jis ki ummeednaa-ummeedi us ki dekhaa chaahiye
جس کی امید ہی مرنے پر ٹکی ہو، اس کی مایوسی کا اندازہ کیجیے۔ ناامیدی کے بارے میں مختصر اور گہرا شعر: آخری امید بھی خاتمہ ہی رہ گیا ہے۔
مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 177 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ