تو خدا تو نہیں اے ناصح ناداں میراکیا خطا کی جو کہا میں نے نہ مانا تیرا
tu khudaa to nahin ae naaseh-e-naadaan merakya khataa ki jo kahaa main ne na maanaa tera
“ناصح” غزل کا وہ کردار ہے جو عاشق کو عشق چھوڑنے کی نصیحت کرتا رہتا ہے۔ شاعر اسے دو ٹوک جواب دیتا ہے کہ اے نادان ناصح، تو میرا خدا تو نہیں، پھر تیری بات نہ ماننے سے میں نے کون سا گناہ کیا؟ حکم تو صرف خدا کا ماننا ہے، دخل دینے والے کی نصیحت ٹالی جا سکتی ہے۔
داغ دہلوی · مہتابِ داغ (1893)، ص 14 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ