لے گئے خاک میں ہم داغِ تمنائے نشاطتو ہو اور آپ بہ صد رنگِ گلستاں ہونا
le gae khaak mein hum daagh-e-tamanna-e-nishaattu ho aur aap ba-sad-rang-e-gulistaan hona
ہم خوشی کی آرزو کا داغ لے کر مٹی میں چلے گئے۔ اب تم ہو اور تمہارا سو رنگوں والے باغ کی طرح کھلنا۔ عاشق کو خوشی نہ ملی، وہ یہ خوشی محبوب کے لیے چھوڑ جاتا ہے۔
مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 16 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ