تم چشم سرمگیں کو جو اپنی دکھا چلےبیٹھے بٹھائے خاک میں ہم کو ملا چلے
tum chashm-e-surmageen ko jo apni dikhaa chalebaithe bithaaye khaak mein ham ko milaa chale
تم نے اپنی سرمہ لگی آنکھ دکھائی اور بیٹھے بٹھائے ہمیں خاک میں ملا دیا۔ سرمہ پسے ہوئے پتھر کا غبار ہوتا ہے، اس لیے آنکھ اور “خاک” میں رعایت ہے۔ ایک نظر عاشق کو برباد کرنے کے لیے کافی تھی۔
شیخ ابراہیم ذوق · دیوانِ ذوق (باضافۂ غزلیات مزید) (1923)، ص 119 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ