khastagi

خستگی

تباہ حالی؛ زخمی حالت، تھکن

Meaning: wretchedness; brokenness

خستگی (khastagi) کا مطلب ہے: تباہ حالی، یا زخمی حالت، تھکن۔ یہ لفظ ہمارے ذخیرے میں ۲ اشعار میں آیا ہے۔

یہ لفظ ان اشعار میں

خستگی کا تم سے کیا شکوہ کہ یہہتھکنڈے ہیں چرخِ نیلی فام کے

khastagi ka tum se kya shikwa ki yehathkande hain charkh-e-neeli-faam ke

اپنی بربادی کا تم سے کیا شکوہ کریں، یہ تو نیلے آسمان یعنی قسمت کی چالیں ہیں۔ عاشق محبوب کو الزام دینے کے بجائے قسمت کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 170 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ہوئی جن سے توقع خستگی کی داد پانے کیوہ ہم سے بھی زیادہ خستۂ تیغِ ستم نکلے

hui jin se tavaqqo khastagi ki daad paane kiwoh hum se bhi zyaada khasta-e-tegh-e-sitam nikle

جن سے امید تھی کہ ہمارے زخموں پر ہمدردی کریں گے، وہ ہم سے بھی زیادہ ظلم کی تلوار کے زخمی نکلے۔ یعنی دنیا میں ہر کوئی دکھی ہے، جن سے تسلی چاہیں وہ خود تسلی کے محتاج ہیں۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 205 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

’خ‘ سے مزید الفاظ

پوری لغت