jigar

جگر

کلیجا؛ یہاں دل کی جگہ؛ کلیجہ؛ حوصلہ، ہمت (لفظی معنی کلیجا)

Meaning: liver; here the heart; liver, the seat of passion; courage (literally liver)

جگر (jigar) کا مطلب ہے: کلیجا؛ یہاں دل کی جگہ، یا کلیجہ، یا حوصلہ، ہمت (لفظی معنی کلیجا)۔ یہ لفظ ہمارے ذخیرے میں ۳ اشعار میں آیا ہے۔

یہ لفظ ان اشعار میں

کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیرِ نیم کش کویہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا

koi mere dil se poochhe tere teer-e-neem-kash koye khalish kahaan se hoti jo jigar ke paar hota

میرے دل سے پوچھو کہ تمہارا آدھا کھینچا ہوا تیر کیسا ہے۔ اگر وہ جگر کے پار ہو جاتا تو یہ مسلسل چبھن نہ رہتی۔ مطلب یہ کہ محبوب کی ادھوری نظر کا زخم دیر تک کسکتا رہتا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 19 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

پھر جگر کھودنے لگا ناخنآمدِ فصلِ لالہ کاری ہے

phir jigar khodne lagaa naakhunaamad-e-fasl-e-laala-kaari hai

ناخن پھر جگر کو کریدنے لگے ہیں؛ لالہ اگانے کا موسم آ گیا ہے۔ محبت کے سرخ زخموں کو بہار کے سرخ لالے سے تشبیہ دی گئی ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 151 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

وہ کون ہے جو مجھ پہ تاسف نہیں کرتاپر میرا جگر دیکھ کہ میں اف نہیں کرتا

woh kaun hai jo mujh pe taassuf nahin kartaapar mera jigar dekh ke main uf nahin kartaa

کون ہے جو میرے حال پر افسوس نہیں کرتا؟ مگر میرا حوصلہ دیکھو کہ میں اف تک نہیں کرتا۔ سب عاشق کی حالت پر ترس کھاتے ہیں مگر وہ خاموشی سے برداشت کرتا ہے۔ اردو میں “جگر” ہمت اور برداشت کی علامت ہے۔

شیخ ابراہیم ذوق · دیوانِ ذوق (باضافۂ غزلیات مزید) (1923)، ص 22 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

’ج‘ سے مزید الفاظ

پوری لغت