زخم نے داد نہ دی تنگیِ دل کی یا ربتیر بھی سینۂ بسمل سے پرافشاں نکلا
zakhm ne daad na di tangi-e-dil ki ya Rabteer bhi seena-e-bismil se par-afshaan nikla
یا رب! زخم نے بھی میرے دل کی گھٹن کا انصاف نہ کیا۔ تیر بھی زخمی سینے سے پر پھڑپھڑاتا ہوا نکل گیا، جیسے تنگ جگہ سے بھاگا ہو۔ یعنی دل غم سے اتنا بھرا ہے کہ اس میں تیر کے لیے بھی جگہ نہیں۔
مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 4 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ