جس توقع پر تھی اپنی زندگی وہ مٹ گئیجو بھروسا تھا ہمیں وہ آسرا جاتا رہا
jis tawaqqo par thi apni zindagi woh mit gaijo bharosaa tha hamein woh aasraa jaata rahaa
جس امید کے سہارے زندگی چل رہی تھی وہ مٹ گئی، اور جس پر بھروسا تھا وہ سہارا بھی جاتا رہا۔ یہ مایوسی کا سادہ اور خاموش بیان ہے جسے ہر وہ شخص پہچان لیتا ہے جس کی کوئی امید ٹوٹی ہو۔
داغ دہلوی · مہتابِ داغ (1893)، ص 13 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ