دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوںروئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں
dil hi to hai na sang-o-khisht dard se bhar na aae kyunroenge hum hazaar baar koi hamen sataae kyun
یہ دل ہی تو ہے، پتھر یا اینٹ نہیں، درد سے کیوں نہ بھر آئے؟ ہم ہزار بار روئیں گے، کوئی ہمیں اس پر کیوں ستائے؟ شاعر کہتا ہے کہ دکھ محسوس کرنا اور رونا انسان کا حق ہے۔
مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 107 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ