بیتاب جی کو دیکھا دل کو کباب دیکھاجیتے رہے تھے کیوں ہم جو یہ عذاب دیکھا
betaab ji ko dekha dil ko kabaab dekhajeete rahe the kyon ham jo ye azaab dekha
میں نے اپنی جان کو بے چین اور دل کو آگ پر بھنا ہوا پایا۔ آخر ہم کیوں زندہ رہے کہ یہ عذاب دیکھنا پڑا؟ عاشق کو افسوس ہے کہ وہ اتنا جیا کہ یہ دکھ بھی دیکھ لیا۔
میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 7 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ