صد موسم گل ہم کو تہ بال ہی گزرےمقدور نہ دیکھا کبھو بے بال و پری کا
sad mausam-e-gul ham ko tah-e-baal hi guzremaqdoor na dekha kabhu be-baal-o-pari ka
سو بہاریں گزر گئیں اور ہم پنجرے کے پرندے کی طرح پروں میں سر چھپائے بیٹھے رہے۔ بے بال و پر ہونے کی وجہ سے کبھی اڑنے کی طاقت نہ ملی۔ عاشق وہ قیدی پرندہ ہے جو ہر بہار کو گزرتا دیکھتا ہے مگر باغ تک نہیں پہنچ پاتا۔
میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 6 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ