نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکنبہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے
nikalna khuld se Aadam ka sunte aae hain lekinbahut be-aabroo ho kar tere kooche se hum nikle
ہم آدم کے جنت سے نکلنے کا قصہ سنتے آئے ہیں، مگر ہم تمہاری گلی سے اس سے بھی زیادہ بے عزت ہو کر نکلے۔ محبوب کی گلی عاشق کی جنت ہے اور وہاں سے نکالا جانا اس سے بڑی رسوائی ہے۔
مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 205 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ