میں بلاتا تو ہوں اس کو مگر اے جذبۂ دلاس پہ بن جائے کچھ ایسی کہ بن آئے نہ بنے
main bulaataa to hoon us ko magar ai jazba-e-dilus pe ban jaae kuchh aisi ke bin aae na bane
میں اسے بلاتا تو ہوں، مگر اے دل کی کشش، اس پر ایسی کیفیت طاری کر دے کہ آئے بغیر اس سے رہا نہ جائے۔ عاشق اپنی تڑپ سے کہتا ہے کہ وہ مقناطیس کی طرح محبوب کو کھینچ لائے۔
مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 179 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ